نئی دہلی،4؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)لوک سبھا میں کرناٹک میں کل بی جے پی کے ایک کارکن کا مبینہ طورپرقتل، تریپورہ میں لڑکیوں کے ساتھ مبینہ آبروریزی اور ان کے قتل کے مقدمات اور مہاراشٹر کے ہگولی میں بند کے دوران پولیس لاٹھی چارج اور ایک طالب علم کے قتل کے معاملے کو اٹھایا گیااور مرکزی حکومت سے ضروری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔وقفہ صفر میں بی جے پی کے پرہلاد جوشی نے کرناٹک میں کل ایک بی جے پی کارکن کے مبینہ طورپرقتل کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں سدھورمیاحکومت آنے کے بعد سے کئی سیاسی قتل ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کل منگلورو میں بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے انچارج دیپک راؤ کو قتل کر دیاگیا۔
جوشی نے الزام لگایا کہ اس سے پہلے اس طرح کے قتل کے ایک معاملے میں این آئی اے نے اپنی تحقیقات کے بعد جن پانچ افراد کو گرفتار کیا وہ ان تنظیموں سے جڑے نکلے جن کے خلاف کئی معاملے ریاستی حکومت واپس لے چکی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس طرح کے عناصر کو ریاستی حکومت سے مراعات مل رہی ہے۔ جوشی نے یہ بھی کہا کہ کرناٹک میں کیرل کی طرح ہی بی جے پی کارکنوں کا سیاسی قتل اس مقصد سے کرائے جارہے ہیں تاکہ وہاں بی جے پی بڑھ نہ سکے۔ انہوں نے ایسے تمام معاملات میں این آئی اے سے تحقیقات کرائے جانے کا مطالبہ کیا۔بی جے پی کے ہی پرہلاد پٹیل نے تریپورہ میں بچیوں کے ساتھ بدفعلی اور قتل کا مسئلہ اٹھایا اور الزام لگایا کہ ایک معاملے میں تو سی پی ایم کے ایک کیڈر نے عصمت دری اور قتل کرنے کی بات کا اعتراف کر لیا لیکن پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد اس میں گواہی نہیں لی اور آگے نہیں بڑھا۔انہوں نے تریپورہ میں بائیں محاذ زیر قیادت حکومت کو مکمل طور پرناکام بتاتے ہوئے مرکزی حکومت سے اس سلسلے میں کارروائی کا مطالبہ کیا۔کانگریس کے راجیو ساتو نے مہاراشٹر میں بھیما-کوریگاؤں کے واقعہ کے بعد بند کے دوران پولیس کی کارروائی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے پارلیمانی حلقہ ہگولی میں بند کے دوران پولیس کی لاٹھی چارج میں دسویں کلاس کے ایک طالب علم کی موت ہو گئی۔